ریڈیو پاکستان لاہور سے ربیع الاول کی مناسبت سے سیرتِ طیّبہ پر یہ پروگرام منعقد کیاگیا۔اس تقریب کی نظامت محترم عبدالجبار شاکر ( مرحوم ) نے کی۔اس تقریب میں حضرت واصف علی واصف ؒ نے ©©©”خیرِ مجسم ﷺ….مکارم اخلاق کی تکمیل“ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔اس نشست میں سیرت طیبہ کے تقریباً ہر پہلو پر جس صراحت سے روشنی ڈالی گئی وہ حضرت واصف علیہ الرحمتہ کا ایک خاص اسلوب بھی ہے اور معرفتِ نورِ محمدی ﷺ کی دلیل بھی !
تقریب کے آخر میں شرکائے تقریب نے سوالات کئے‘ جو موضوع کے حوالے سے عصر ِ حاضر کے علمی و فکری اشکال پر مبنی تھے ۔قبلہ واصف علی واصفؒ نے حکمت و دانائی سے پُراپنے مخصوص اسلوب ِ بیاں میں اِن تمام فکری اشکالات کا ازالہ فرمایا۔
کمپئیر : عبدالجبار شاکر
تلاوتِ کلام پاک : قاری محمد عارف علوی
نعتِ رسول مقبول ﷺ : نذیر حسین نظامی
صدارت : ڈاکٹر محمد یوسف گورایا
سوالات کرنے والے : عابد عباس، مرید مرزا، خرم امین، ارم صاحبہ
عبد الجبار شاکر:بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ربیع الاول کے حوالے سے پروگرام خیر مجسم ﷺکی دسویں نشست کے ساتھ عبدالجبار شاکر حاضرِخدمت ہے۔آج کی اس نشست کی صدارت معروف سکالر جناب ڈاکٹر محمد یوسف گورایا صاحب کریں گے۔ آج کا موضوع ہے”خیرِ مجسم ﷺ …. مکارم ِاخلاق کی تکمیل“ اِس موضوع پر آج کے مقالہ نگار معروف دینی دانشور جناب واصف علی واصف صاحبؒ ہیں۔
میں اِن سے درخواست کروںگاکہ وہ اِس موضوع پر اپنا خصوصی مقالہ پیش کریں۔
جناب واصف علی واصف صاحب ؒ :
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔معزز سامعین۔ السلام علیکم۔
حکمائے عالم نے سب سے بڑے اخلاق کے بارے میں دنیا کو جو معیارِ اخلاق دیا‘وہ سب انسانوں کا تصور ہے اور انسانی تصور میں نفس کا ہونا بعید از قیاس نہیں ہو سکتا۔اس کے برعکس جو معیار اللہ تعالی نے عطا فرمایا‘وہ ہر خامی سے آزاد ہے۔خالق ہی بہتر جانتا ہے کہ مخلوق کے لئے کون سا معیار ِاخلاق بہترہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺکی ذات میں یہ فیصلہ فرمادیا کہ ….لقدکان لکم فی رسول اللّٰہ اُسوة حسنة۔اس کے بعد اخلاق کا بہترین نمونہ حضورﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔تکمیلِ انسانیت کا نقطئہ عروج حضورﷺکی ذات اقدس ہے۔تکمیل ِذات میں تکمیل ِ اخلاق کا دعویٰ اپنی تکمیل کے ساتھ موجود ہے۔ذات کامل ہو تو صفت مکمل ہو جاتی ہے۔ ذات اور صفات کا رشتہ عجب ہے۔ کبھی صفت ذات کی پہچان ہے اور کبھی ذات صفات کی۔مثلاََ اگر صفت صداقت ہے تو ذات صادق ہی کہلائے گی لیکن اگر ذات حضور اکرمﷺ کی ہو تو آپ ﷺ ایسے صادق ہیں کہ آپ ﷺ جو بھی فرمائیں‘وہی صداقت ہے۔
آپﷺکی ذات ِ گرامی اتنی مکمل ہے کہ آپﷺ کے دم سے ہی صفات کی تکمیل ہوئی‘صفات کو مرتبہ ملا‘صفات کو تقدس ملا‘پہچان ملی‘عروج ملا۔ایک عام آدمی سچ بولے تو ہم اس سچ کی تحقیق کر سکتے ہیں عقل کے ذریعے سے‘ مشاہدے کے ذریعے سے۔ لیکن ایک پیغمبر اور خاص طور پر حضور اکرم ﷺ کی صداقت ہماری تحقیق سے بلند و ماوراہے۔
حضور اکرمﷺ نے زندگی کے معاملات میں جو بھی ارشاد فرمایا‘وہ صداقت ہے کیونکہ ان کا مشاہدہ موجودتھا۔لیکن کمال صفت تو یہ ہے کہ آپنے اللہ کریم کے بارے میں اور مابعدکے بارے میں جو کچھ ارشاد فرمایا‘وہ ہماری تحقیق میں نہ آ سکنے کے باوجود صداقت ہے‘بلکہ صداقتِ مطلق ہے اور کمالِ صفت کا یہ اعجاز ہے کہ ہم آپ ﷺ کی ہر بات کو تحقیق کے بغیر تسلیم کرنے کو اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔
آپ ﷺ سے پہلے پیغمبروں میں رسالت کا رنگ مخصوص اور جزوی تھا۔ آپﷺ کی شخصیت میں رسالت اپنے انتہائی رنگ سے ایسی مکمل ہوئی کہ اس کے بعد کسی رسول کی ضرورت ہی نہیں۔یعنی آپ نے اخلاق کو اس درجہ مکمل فرمایاکہ اس کے بعد کسی اور تفصیل کی ضرورت ہی نہیں۔آپ نے انفرادی اور اجتماعی اخلاق میں وہ انقلاب پیدا فرمایا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔
حضورِاکرمﷺ کی تعلیم کا نتیجہ تاریخ نے دیکھا کہ آقا پیدل چل رہا ہے اور غلام سوار ہے۔آپ کے دم سے گویا اخلاق اور صفات کو سند عطا ہوئی۔آپ کے اخلاق کی تاثیر یہ ہے کہ آپ جب ارشاد فرماتے تو سامعین سر جھکا کر اور خاموش ہو کر یوں سنتے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔آپ ﷺ کا حسنِ اخلاق یہ ہے کہ آپ نے جس کو دفعتاََ دیکھا ‘وہ مرعوب ہو گیا۔جو آپ سے آشنا ہوا‘وہ محبت اور ادب کرنے لگ گیا۔آپ نے اخلاق کو تکمیل کا وہ درجہ عطا فرمایا کہ ایک طرف تو اللہ اور اللہ کے فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہیں اور دوسری طرف آپ کے جانثار‘ آپ ﷺکی خدمت میں آج تک درودوسلام اور نعت کا ہدیہ پیش کرتے چلے آ رہے ہیں۔اپنے تو اپنے‘بیگانے بھی آپﷺ کو عقیدت کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔آج بھی چودہ سو سال کی دوری کے باوجود آپ دلوں کے قریب ہیں۔
آپ ﷺکی ذاتِ اقدس میں جہاں اللہ کریم نے انسانیت کی تکمیل فرمائی‘ نبوت کی تکمیل فرمائی‘وہاں اخلاقِ جلیلہ کی بھی تکمیل فرما دی۔آپ کا کردار‘ کردار کی انتہا ہے۔آپ ﷺ کا ارشاد‘ ارشاد کی انتہا ہے اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب‘آسمانی کتب کا حرفِ آخر۔آپ کے اخلاقِ عالی کا یہ مقام ہے کہ اسے صداقتِ نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا۔سورہ یونس میں ارشاد ہے کہ©©”میں نبوّت سے پہلے تم لوگوں میں ایک عمر بسر کر چکا ہوں©‘ کیا تم سمجھتے نہیں“۔گویا اعلانِ نبوّت سے پہلے آپ ﷺ کی چالیس برس کی تمام عمر بھی مرقع¿ اخلاق ہے۔
نبوت ا خلاق کا نتیجہ نہیں‘ اخلاق نبوت کی عطا ہے اور نبوت اور پھر آپﷺ کی نبوت‘ کمالِ عطائے الٰہی ہے۔جب اللہ کریم اپنے حبیبﷺ کو اخلاق کا معیار بنا کر پیش کرے تو وہ اخلاق کتنا مکمل ہو گا‘ اس کا اندازہ مشکل نہیں۔دراصل اخلاق ایک ایسی راہِ عمل ہے‘ جس پر چلنے والے انسان کا کردار مخلوقِ خدا کے لئے بے ضرر اور منفعت بخش ہوتا ہے۔انسانی سوچ اخلاق کا جو معیار دیتی ہے‘وہ قابل ِ تاثیر ہو سکتا ہے لیکن جب پیغمبر اخلاق کا معیار دے تو وہ معیار خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور خالق بہتر جانتا ہے کہ مخلوق کے لئے کون سا کردار بہتر ہے۔
حضورِاکرم ﷺ کے اخلاق کے بیان کے بارے میں جہاں تاریخ گواہ ہے‘ وہاں قرآن بھی شاہد ہے کہ ”اے پیغمبرﷺ! تم اعلیٰ اخلاق پر پیدا ہوئے“
حضور ﷺ کا اپنا ارشاد تکمیلِ اخلاق کے ضمن میں ایک مینارئہ نور کی طرح درخشاں ہے۔ارشاد ہے ”میں حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں©©©“….اور یہ کہ” میں تو اسی لئے بھیجا گیا ہوں کہ مکارمِ اخلاق کا معاملہ تکمیل تک پہنچاﺅں“
شاید ہی کوئی ایسی اخلاقی صفت ہے جس کے اپنانے کی آپ نے تلقین نہ فرمائی ہو‘ جس پر آپ نے خود عمل کر کے نہ دکھایا ہو۔آپ نے زندگی کو اخلاق کی تفصیل اور تکمیل بنا دیا۔
آپ ﷺ محافظِ اخلاق ہیں‘ مفسّرِ اِخلاق ہیں‘ مظہرِ اخلاق ہیں‘منبع¿ اِخلاق ہیں‘ مجسّم اِخلاق ہیں‘ بلکہ مکمل اخلاق ہیں۔آپﷺ کی اخلاقی رفعتوںکا بیان دراصل پوری سیرت کا بیان ہے۔اخلاق کی جزئیات میں آپ کے ہاں استقامتِ عمل ہے‘حسنِ سلوک ہے ‘ حسنِ معاملہ ہے‘ عدل و انصاف ہے‘ جودوسخا ہے‘ ایثار ہے‘ مہمان نوازی ہے‘ سادگی اور بے تکلفی ہے‘ شرم و حیا ہے‘ عزم و استقلال ہے‘ شجاعت ہے‘ صداقت ہے‘ امانت ہے‘ ایفائے عہد ہے‘ زُہد و تقوٰی اور قناعت ہے‘ عفو و رحم ہے‘ کفار اور مشرکین سے حسنِ سلوک ہے‘ غریبوں کے ساتھ محبت ہے‘ حیوانات اور پرندوں پر رحم ہے‘رحمت و محبت عام ہے‘ رقیق القلبی ہے‘ عیادت و تعزیت ہے‘ اولاد سے محبت ہے‘ غرضیکہ ” حسنت جمیع خصالہِ “
آپﷺ کے بارے میں کیا لب کشائی کی جا سکتی ہے۔ آپ کے اخلاق اور اوصاف کا ذکر احادیث اور سیرت کی کتابوں میں بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔آپ کی زندگی کا ایک ایک واقعہ اخلاق و اوصاف کی تفسیر نظر آتا ہے۔آپ کے اخلاق میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ آپ نے جس اخلاق کا پرچار کیا‘ اس پر مکمل طور پر عمل کر کے بھی دکھایا
۔آپ کی ذاتِ اقدس تمام انبیائے کرامؑ اور مصلحینِ عالم میں واضح طور پر اس لئے ممتاز ہے کہ آپ کا عمل آپ کے علم کا شاہد ہے۔حدیثِ نبوی اور سنتِ نبوی میں تطابق ہے۔
آپ ﷺ کا کمالِ اخلاق یہ ہے کہ وہ دور جس میںصداقت‘ دیانت اور امانت کے چراغ گُل ہو چکے تھے‘ آپ نے اپنے پاکیزہ کردار سے اس دور میں”الصادق“ اور ”الامین“ کے القاب حاصل کئے اور وہ بھی مخالفین سے۔آپ کے قریب رہنے والے سبھی لوگ بیک زبان یہ کہتے کہ آپ نہایت نرم مزاج‘ خوش اخلاق اور نیک سیرت تھے۔ حضرتِ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے کبھی برائی کے بدلے برائی سے کام نہیں لیا۔آپ ہمیشہ درگزر فرماتے‘ معاف فرما دیتے۔آپ نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔آپ نے کبھی کسی کو بات کرنے کے دوران ٹوکا نہیں۔آپ ﷺ خندہ جبیں‘ نرم گفتار اور مہربان تھے۔
آپ ﷺ پر جب پہلی بار وحی نازل ہوئی تو آپ نزولِ وحی کی شدت سے گھبرائے اور آپ پر لرزہ طاری ہو گیا۔آپ نے گھبرا کر رفیقہ¿ حیات سے اپنی کیفیت کا ذکر فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دی اور آپ کے اخلاق کے بارے میں یہ کہا ”ہرگز نہیں! خدا کی قسم! خدا آپ کو کبھی اندوہ گیں نہ کرے گا ‘آپ عزیزوں اور رشتے داروں سے حسنِ سلوک کرتے ہیں ‘ناتواں،بے کسوں اور غریبوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ‘جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا‘ اسے دیتے ہیں‘ مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں‘ مصائب میں حق کے معاون اور مددگار ہیں‘ آپ میں وہ تمام صفات ہیں کہ آپ صادق القول ہیں“
آپ ﷺکے قبل اَز نبوّت کا گواہ حضرت خدیجہؓ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟ آپ داعی ¿ حق ہونے کی حیثیت سے اپنی تعلیم کا افضل و اعلیٰ نمونہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انسانی زندگی کے لئے جس انسانی اخلاق کی تعلیم فرمائی‘ اس کا عملی مظہر سرکار ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔حضور اکرمﷺ کو اس بات کی پوری آگہی تھی کہ آپ ﷺ کو دنیا کے لئے معلّمِ اخلاق بنا کر بھیجا گیا ہے۔آپ کے اعمال اور آپ کے اقوال اس بات کا مکمل ثبوت ہیں۔اخلاق کی تکمیل آپ کے دم سے ہوئی۔
آپ ﷺکے چند ارشادات ملاحظہ ہوں۔آپ نے فرمایا کہ©©”کامل انسان اور کامل ایمان اس مومن کا ہے‘جس کا اخلاق اچھا ہے۔اعمال کے ترازو میں حسنِ عمل سے بھاری کوئی نیکی نہیں۔انسان حسنِ اخلاق سے عبادت کا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔تم میں سب سے اچھا وہ ہے ‘جس کے اخلاق اچھے ہیں©©“۔حضور اقدس ﷺ سے ایک مرتبہ سوال کیا گیا ©”کون سی نیکی بہتر ہے؟“ آپ نے فرمایا ”کھانا کھلانااور سب کو سلام کہنا “ یعنی سب کو سلامتی کی دعا کا پیغام پہنچانا۔
حضرت ابو ذرغفاریؓ نے ایک مرتبہ اپنے کسی غلام کو برا بھلا کہا۔حضور اکرم نے سن لیا۔فرمایا©©”ابوذرؓ! ابھی تم میں جہالت باقی ہے‘غلام تمہارے بھائی ہیں‘ اللہ نے انہیںتمہارے ماتحت کیا ہے‘ جس کا بھائی ماتحت ہو‘ اسے چاہیے کہ بھائی کو ویسا کھانا کھلائے جیسا آپ کھائے‘ ویسا ہی پہنائے جیساآپ پہنے‘ بھائی سے ایسا کام نہ لے جو اس سے نہ ہوسکے‘ کوئی سخت کام ہو تو اس کی مدد کرے©©“
حضور ﷺ کے اخلاقِ عالی میں حسنِ سلوک کو بڑی اہمیت ہے۔آپ نے ایک مرتبہ فرمایا ”قسم ہے وہ ایمان نہیں لایا‘ خدا کی قسم وہ ایمان نہیں لایا‘ خدا کی قسم وہ ایمان نہیں لایا“۔ صحابہؓ نے عرض کیا”یا رسول اللہ! کون؟©©“ آپ نے فرمایا”جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہیں©©“
آپ ﷺکی زندگی کے واقعات اور آپ کے ارشادات میں ایسے ہزارہا پہلو سامنے آتے ہیں‘ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لئے تشریف لائے۔کون سی ایسی خوبی ہے جو آپ ﷺ کی ذات میں موجود نہ ہو۔ آپ نرم مزاج تھے‘ خوش گفتار تھے‘ متین تھے‘ حلیم الطبع تھے۔کسی کی دل آزاری نہ فرماتے۔آپ ﷺ کی مجلس میں نئے آنے والوں کو جگہ نہ ملتی تو آپ ردائے مبارک بچھا دیتے۔بچوں پر تو آپ اس حد تک شفیق تھے کہ مشرکوں کے بچوں پر بھی رحم کرنے کا آپ نے حکم فرمایا۔غلاموں پر آپ ﷺکی شفقت کا یہ عالم تو اس بات سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ آج بھی آپ ﷺ کی غلامی ہی سرفرازی کا اظہار ہے۔آپ نے ہمیشہ غریبوں اور بے کسوں سے عملی ہمدردی کا اظہار فرمایا۔آپ نے دنیا میں مساوات کا اعلیٰ ترین نمونہ قائم کیا۔فتح مکہ کے بعد آپ کا ارشاد ہے ”اے گروہِ قریش! اللہ نے جہالت کا غرور اور نسب کا افتخار مٹا یا۔تمام لوگ آدمؑ کی اولاد ہیں اور آدمؑ مٹی سے بنے“….اور خُلق کا یہ عالم ہے کہ آپ کے پاس خُلقِ عظیم ہے۔آپ ﷺکا ارشاد ہے کہ©©”ہر دین کا خُلق ہوتا ہے اور اسلام کا خُلق حیا ہے“
آپﷺ کے پاس جو صفت بھی موجود ہے‘ دائم ہے۔آپ دائم الرضا ہیں‘ دائم الزہد ہیں‘ دائم الشوق ہیں‘ دائم الصبرہیں‘دائم الصدق ہیں‘ دائم الامر ہیں‘ دائم الفکر ہیں۔غرضیکہ آپ ہمہ صفت موصوف ہیں۔حُسن آپ کی صفت ہے اور صفت آپ کا حُسن۔آپ ہمیشہ ہشاش بشاش رہے اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور اللہ کی محبت نے آپ کو دنیا کے خوف اور محبت سے آزاد کر دیا۔حضرت سعد بن ہشامؓ سے روایت ہے کہ آپؓ نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا”اے ایمان والوں کی ماں! حضور اکرم ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کچھ بتائیں“ تو آپؓ نے فرمایا ”تم نے قرآن نہیں پڑھا؟“ اُنہوں نے کہا”قرآن تو پڑھا ہے“۔حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا ”حضور اکرمﷺ کا خُلق قرآن تھا“یعنی آپ قرآنِ مجسم تھے۔آپ کا اخلاق ہی منشائے قرآن کے عین مطابق ہے۔قرآن کو پڑھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرآن جس اخلاق کی تعلیم دے رہا ہے‘ وہ حضور ہی کا اخلاق ہے اور حضورﷺ کی زندگی اور آپ کے اخلاق کو دیکھیں تو یوں نظر آتا ہے کہ آپﷺ کااخلاق قرآن ہی کا اخلاق ہے۔اللہ کا پسندیدہ اخلاق آپ ﷺ کی ذات میں اور آپ کا اخلاق اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں موجود ہے۔اسی لئے آپ کے اخلاق کی پیروی ہی رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے۔
اخلاقیات کے تمام مکاتیبِ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ رحم‘ اخلاق کی اعلیٰ صفت ہے اور حضورﷺ کی ذاتِ مبارکہ میں رحم اور رحمت کا یہ عالم ہے کہ آپ کے بارے میں ارشاد ہے ©”و ما ارسلنٰک الا رحمتہ اللعالمین “….کہ آپ تمام مخلوق کے لئے رحمتِ مجسم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔اپنا‘ بیگانہ‘ مومن‘ کافر‘ چرند‘ پرند‘ ذی جان‘ بے جان‘ مرئی یا غیر مرئی‘ کوئی مخلوق ہو آپ کی رحمت کا سایہ سب کے لئے ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے۔آپ کو جب بھی کسی کفار پر لعنت بھیجنے کے لئے کہا‘ آپ نے ہمیشہ یہی فرمایا کہ”میں لعنت کے لئے نہیں ‘رحمت کے لئے بھیجا گیا ہوں“روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا‘ آپ کے رعب و جمال سے کانپنے لگا‘ آپ نے فرمایا” اپنے آپ کو سنبھال‘ میں کوئی بادشاہ نہیں‘ میں تو قریشی ماں کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی“
آپ ﷺ لغزشوں کو معاف فرمانے والے تھے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ”میں نے حضورِ اقدس کی خدمت کی ہے۔میں نے کبھی آپﷺ کو یہ کہتے نہیں سنا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور ایسا کیوں نہ کیا“۔غلاموں کے ساتھ شفقت کا یہ عالم ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا ”یا رسول اللہ! غلاموں کا قصور کتنی دفعہ معاف کریں“ آپ خاموش رہے۔اس نے جب تیسری مرتبہ یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا ” ہر روز ستر مرتبہ“۔حضور اقدس اکثر دعا فرمایا کرتے تھے کہ ” اے اللہ! مجھے مسکین زندہ رکھ‘ مسکین اٹھا‘ مسکینوں ہی کے ساتھ میرا حشر ہو“ حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا ”یہ کیوں؟“ آپ نے فرمایا”اس لئے کہ مسکین دولت مندوں سے پہلے جنت میں جائیں گے“
آپﷺ کی روزمرہ کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔آپ میں تکلف اور تصنّع کا سایہ تک نہ تھا۔نماز‘ خوراک‘ رہائش میں ہمیشہ سادگی سے کام لیتے۔امارت اور فضولیات آپ کو نا پسند تھیں۔واقعہ ہے کہ ایک صحابیؓ نے نیا مکان بنوایا‘ جس کا گنبد بلند تھا۔آپ نے دیکھا تو پوچھا”یہ مکان کس کا ہے؟“لوگوں نے نام بتایا۔آپ چپ رہے۔اور وہ شخص حسبِ معمول جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیاتو آپ نے منہ پھیر لیا۔اس نے پھر سلام کیا‘ آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔وہ سمجھ گیا کہ ناراضگی کی کیا وجہ ہے۔جا کر گنبد کو زمین کے برابر کر دیا۔آپ نے جب دوبارہ مکان دیکھا تو ارشاد فرمایا”ضروری عمارت کے سوا ہر عمارت انسان کے لئے وبال ہے“
ایک دفعہ آپ ﷺ ایک چٹائی پر آرام فرما رہے تھے ،اُٹھے تو لوگوں نے دیکھا کہ پہلوئے مبارک پر نشان پڑ گئے ہیں۔عرض کیا ”یا رسول اللہ!ہم لوگ کوئی گدّا منگوا کر حاضر کریں“۔آپ نے فرمایا”مجھ کو دنیا سے کیا غرض‘ مجھے دنیا سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا اس سوار کو جو تھوڑی دیر کے لئے کسی درخت کے سائے میں بیٹھ جاتا ہے اور پھر اس کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے“۔آپ نے سادہ زندگی کو ہی بلند خیالی کے لئے لازمی قرار دیا۔
دنیا کے تمام مفکرینِ اخلاق نے آج تک جتنے بھی اخلاق کے اصول بنائے ہیں‘آپ کی زندگی ان اصولوں کی مظہر ہے۔آج کے زر پرست اور ہوس پرست معاشرے میں شاید یہ بات سمجھنا مشکل ہو کہ وہ انسان جو پیغمبروں کا امام ہو‘ اللہ کا محبوب ہو‘ قبیلے کا سردار ہو‘جس کا نام لوگوں کے ایمان کا حصہ ہو‘جس کا علم دلوں پر جاری ہو‘ جس کے اشاروں پر لوگ اپنی جان نثار کرنے کو سعادت سمجھتے ہوں‘اُس انسان کے جسمِ مقدس پر کوئی پیوند دار لباس ہو اور پیوند بھی اپنے دستِ مبارک سے لگائے ہوں …. جس کو دولتِ معراج عطا ہو رہی ہے‘ عروج کی انتہا ہو رہی ہے‘ اُس کی زندگی اتنی سادہ ہو کہ اگر حضرت عمرؓ دیکھیں تو اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیںکہ قیصر و کسریٰ تو باغ و بہار کے مزے لوٹیں اور آپ اللہ کے پیغمبر ہوتے ہوئے اس حال میں زندگی بسر کریں اور پھر حضور سادگی اور یقین سے یہ ارشاد فرمائیں کہ”اے عمرؓ! کیا تم کو یہ پسند نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت©©“
حضور اقدس ﷺ نے اخلاقِ انسانی کو تکمیل کے اس درجے تک پہنچا دیا کہ یہ اخلاق آسمانی ہو کر رہ گیا۔اللہ نے انسانوں کے لئے جو بھی اخلاق پسند فرمایا‘ وہ دراصل اخلاقِ محمدی ہے۔حضور نے جس اخلاق کو پیش کیا وہ دراصل اللہ کا پسندیدہ اخلاق ہے۔کوئی خوبی ایسی نہیں جو حضورپرنور میں نہ ہو۔آپ ﷺ ایفائے عہد میں اتنے بلند تھے کہ آپ ﷺ تین دن تک ایک جگہ کھڑے رہے‘ ایک انصاری نے آپ سے ٹھہرنے کا وعدہ لیا اور خود بھول گیا۔تین دن کے بعد جب وہ وہاں سے گزرا‘آپ ﷺکو دیکھا تو اسے یاد آیا لیکن آپ نے اس سے صرف اتنا کہا کہ تو نے مجھے بہت تکلیف دی۔
حضور ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کیا کیا کہا جائے۔آپ نے اللہ سے اُسوہ¿ حسنہ کی سند لی، دنیا نے آپ ﷺ کو معلّمِ اخلاق مانا، آپ پر نبوّت کی تکمیل ہوئی، اِنسانیت کی تکمیل ہوئی اور اِخلاق کی تکمیل ہوئی۔آپﷺ کی ذات کے بارے میں بس یہی کچھ کہا جا سکتا ہے کہ
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
جس شان توں شاناں سب بنیاں
عبد الجبار شاکر: اب میں سامعین کو دعوت دیتا ہوں‘ وہ جناب واصف علی واصف ؒصاحب سے اپنے سوالات کر سکتے ہیں۔
عابد عباس :میں واصف ؒصاحب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے سامنے اخلاق کا بہترین نمونہ حضورِ پاکﷺ کی ذاتِ گرامی کی صورت میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود ہمارا معاشرہ روز بروز اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟
جناب واصف علی واصف صاحب ؒ:
اس سوال کے اندر ہی جواب موجود ہے کہ ہمارا علم اسلام ہے‘ ہمارا علم حضور پاکﷺ کے اخلاق ہیں‘ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کے کیا اخلاق ہیں لیکن ہمارا عمل اس سے دور ہے۔ہم نے اس علم کو اپنی عملی زندگی میں رائج نہیں کیا۔یہ تو وجہ ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ آپ عمل کو ہی علم کہیں تو پھر وہ عمل جو اس علم کے مطابق ہو‘ہم وہی عمل اختیار کریں تو پھر معاشرے کا درست ہونا مشکل نہیںہے۔مثلاََ ہم بار بار یہ کہتے ہیںکہ آپ غلاموں کے ساتھ بڑا اچھا سلوک فرماتے تھے۔تو آج کے انسان کو نوکروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ہونا چاہئے۔آپ نے اپنی دخترِ نیک اختر کی شادی فرمائی تو جو بھی جہیز کی صورت تھی‘تو آج کوئی ایسا انسان ہونا چاہئے جو اس معیار کے مطابق اپنی زندگی میں سادگی اختیار کرکے دکھائے۔اس لئے ہمارے پاس علم تو آپ کی ذات کا ہے مگر ہمارا عمل اس کے مطابق نہیں۔تو یہ جوdichotomyیا خلیج ہے ‘ اگر علم اور عمل کے درمیان یہ خلیج ختم ہو جائے تو انشاءاللہ تعالیٰ معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔یہ کوئی مشکل بات نہیںہے۔
مرید مرزا : میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ واصفؒ صاحب! کھانا کھلانے کی جو تاکید ہے‘ کیا اس میں غیر مسلم بھی شامل ہیں؟
جناب واصف علی واصف صاحب ؒ :
جب حضور پاک ﷺ فرمائیں کہ سب کو کھلانا چاہیے تو پھر اس میں تخصیص نہیں۔ جو بھی بھوکا ہو‘ اُسے کھانا کھلایا جائے۔دنیا میں جو شخص پیدا ہوا‘ اُسے اللہ نے پیدا کیا ہے۔ایک بار جب ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے لگ جائیں‘ اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے لگ جائیں تو پھر مخلوق میں سے ہم کسی کے ساتھ غیر نہیں ہوتے۔تو یہ حکم انسانی زندگی کے حوالے سے ہے۔محتاج کی خدمت کی جائے اور غریب کو کھانا کھلایا جائے۔ کھانے سے کسی کو محروم نہیں کیا گیا‘ چاہے وہ دین پر ہو یا نہ ہو۔
خرم امین : میرا محترم واصف علی واصف صاحبؒ سے یہ سوال ہے کہ آپ نے حضور پاکﷺ کے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے بارے میں جو بتایا ہے تو آپ حضور پاکﷺ کے خُلقِ عظیم کی وضاحت فرما دیں۔
جناب واصف علی واصف صاحب ؒ:
میں نے اپنے مقالے میں خلقِ عظیم کے مختلف پہلوﺅں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔آپ اسے یوں سمجھ لیں کہ جو صفت ہے وہ حضور پاک میں کمال درجے کی ہے‘ اگر تواضع ہے تو کمال درجے کی ہے‘ اخلاق ہے تو کمال ہے‘ معاملات ہیں تو کمال ہے‘ اولاد سے تعلقات ہیں تو کمال کے ہیں‘ بچوں سے شفقت ہے تو کمال ہے‘ منصب ہے تو کمال ہے۔غرضیکہ آپ ﷺکی زندگی کا ہر شعبہ ہی کمال ہے۔اس لئے خُلقِ عظیم کا منصب ہے تو کمال ہے۔
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺکے اخلاقِ عالی ہر لحاظ سے عظیم ہیں۔ان کی عظمت یہ ہے کہ جو علم ہے‘ وہی عمل ہے‘ تو آپ کی زندگی میں علم اور عمل میں کوئی فرق نہیں۔جو آپ فرماتے ہیں وہی عمل فرماتے ہیں‘ جو کہتے ہیںوہ کر کے دکھاتے ہیں۔یہی آپﷺ کی عظمت ہے اور یہی آپ ﷺ کی عظمت کی انتہا ہے۔
اِِرم صاحبہ : میرا جناب واصف علی واصف ؒصاحب سے یہ سوال ہے کہ حضور پاکﷺ کے اخلاق کو موجودہ دور میں کس طرح جاری و ساری کیا جا سکتا ہے؟
جناب واصف علی واصف صاحب ؒ :
آپ ﷺ کے اخلاق کو معاشرہ میں جاری و ساری کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ آج کا مسلمان آپ ﷺکی زندگی کواورآپ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں رائج کرنے کا اہتمام کرے‘آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی فکر کرے اور آپ کے علاوہ جو راستے ہیں‘ ان پر چلنے کا جو فیشن سا ہو گیا ہے‘ اس سے گریز کرے۔مسلمان اپنی زندگی کو حضور پاکﷺ کی غلامی میں حاضر کر دیں تو موجودہ معاشرے میں وہ چیز رائج ہو سکتی ہے جو اسلام کا منشاءہے۔اسلام کو زندگی میں رائج کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ پہلے اسے دل میں رائج کیا جائے‘ اپنے وجود پر رائج کیا جائے‘ اپنی روح پر رائج کیا جائے‘ پھر معاشرے میں اسلام کا رائج ہونا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔جب انسان کا باطن درست ہو جائے تو ظاہر درست ہو جاتا ہے اور معاشرہ خود بخود اصلاح پکڑ لیتا ہے۔ آپ اسے حضور پاکﷺ کا اعجاز ہی سمجھیں کہ آپ کے دم سے یہ معاشرہ درست ہو جائے گا‘ وہ محبت ہی ہمیں اطاعت سکھائے گی۔اس محبت ہی کے ذریعے ہم ایک اچھا اور فلاحی معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ آپ کے حکم کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔والسلام۔ آپ سب کے لئے دعا ہے۔

