علم ….ایک دشت ِ بے اماں ہے ….بے سر وسامانی کا عالم ہے ….اس دشتِ بے اماں میں کسی جان کو امان اُس وقت تک نہیں ملتی جب تک وہ شہر ِ علم میں نہ جا بسے …. یا اُس شہر کی یادہی اُس میں نہ آن بسے !!دشت ِعلم میں جب شہر آباد ہو جاتا ہے‘ تو جان کوبھی امان مل جاتی ہے اورجہان کوبھی ۔ کُل جہان کا سرو سامان اور اِس کی امان …. تہذیب ‘ اخلاق اور تمدّن …. سب شہرِ علم کی دین ہے ….اورشہرِ علمکی اِس دین کو دِین کہتے ہیں۔
توحید کو اگر علم مان لیا جائے‘ تو ماننا پڑے گا کہ علم تک رسائی علم ہی کے ذریعے ممکن نہیں۔ علم ایک نور ہے …. اور شعاعِ نور جب تک منعکس نہیں ہوتی حدِّ اِدراک میں نہیں آتی۔ آئینے میں عکس…. برعکس نہیں ہوتا …. ہو بہو ہوتاہے ۔ علم تک رسائی حلم کے واسطے سے ہوتی ہے …. اور حلم تک پہنچنے کیلئے صبر کا وسیلہ اختیار کرناپڑتاہے ۔علم کے میٹھے پانیوں تک پہنچنے کا راستہ حلم کی وادیوںسے گزرتاہے ۔ جو حلم کو پہنچ جاتاہے …. وہی علم میںبھی پہنچا ہواہوتاہے۔اگر علم جاننے کانام ہے …. تو علم کی قدربھی حلم ہی جانتاہے۔ حلم کا تمام علم ….شہرِعلم پر تمام ہے۔ حلم ….خالق اور مخلوق کے درمیان ایک برزخ ہے۔ حلم کا سائبان میسّر نہ آئے تو عالمِ خلق بے رُخ علم کی تمازت سے جھلس کر رہ جائے ….یہ حلم کی کملی کا سایہ ہے‘ جس کے زیرِ سایہ زندگی نمو پاتی ہے ‘ پروان چڑھتی ہے۔ درحقیقت علم اور حلم آپس میں اس طرح ملے ہوئے ہیں جس طرح توحید اور رسالت …. اور حلم اور صبر ایک دوسرے کی اس طرح پہچان ہیں …. جس طرح رسالت اور ولائت ۔
د ین کی تعلیم اخلاق ہے …. اور اخلاق کا بہترین مظاہرہ صبر کی صورت میں دیکھنے کو ملتاہے۔اخلاق کی تمام تفاسیر درحقیقت حلم اور صبر کی تدابیرہیں ۔ حلیم الطبع شخص بالعموم طویل عمر پاتاہے ….اُس کی عمر کا طویل ہوناغالباً کوتاہ فکراور کوتاہ عمل لوگوں کے ساتھ صبر کرنے کا ایک صلہ ہوتا ہے ۔ عمرِ خضر پانے کیلئے سداہرابھرا رہنا ہوتاہے …. دوسروں کیلئے گھنی چھاﺅں بننا پڑتاہے۔صبر کا پہلا سبق غصے اور اشتعال سے توبہ ہے ۔ غصے کے عالم میں انسان خود کوئی علم سیکھ سکتا ہے ‘ نہ کسی کو سکھا سکتاہے ۔ دراصل غصے اور علم میں وہی فرق اور فاصلہ ہے جو آگ اور پانی میں ہوتاہے۔
صبر…. برداشت سے شروع ہوتاہے ….اوراحسان پر پہنچ کر ثمر بار ہوتا ہے۔ صبر کا گھونٹ تلخ ہوتاہے …. مگر پھل میٹھا ہوتاہے۔صبر ظاہری قوت کی قربانی مانگتاہے …. اور اس کاصلہ باطنی قوت کی فراوانی کی صورت میں ملتاہے۔ ظاہر ی تکالیف پر منہ بند کرنے والا اپنے لئے باطنی خزانوںکے منہ بھرے ہوئے پاتاہے ۔ صبر کرنے کا پہلا مرحلہ خاموش ہونا ہے …. اور آخری مرحلہ ظالم کو اپنی بددعا کی زد میں آنے سے بچانے کی تدبیر کرنا ہے۔
صبرکرناایک کارِاخلاص ہے….اوراخلاص اپنے مفاد کی نفی کا نام ہے۔ صابر ہونا‘مخلص ہوناہے…. کہ مفاد پرست منافق ہوتا ہے ….اور منافق شخص صبرکے میدان سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ منافق کے دل کا نفاق اس کی بے صبری سے ظاہرہوا جاتاہے ۔ اخلاق کے باب میں اگر ذاتی مفاد کا ایک لفظ بھی شامل کر دیا جائے تویہ کتاب ِ اِخلاص میں تحریف کے مترادف ہے ۔اخلاق نفی اخلاص …. برابر ہے منافقت کے !! اخلاق …. بلاغرض و غائت اور بلا تخصیص ِ خاص و عام مخلوق سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کانام ہے ۔ مخلوق کے ساتھ خوش اخلاق ہونا….خالق کو احِسان مند کرنا ہے۔ احسان بے غرض ہوتاہے …. بلکہ بلا غرض و غائت ہوتاہے ۔خوش اخلاق ہونے کی شرط یہ ہے کہ اخلاق کا ہر حوالہ غیر مشروط ہو۔ خلق ِ خدا سے خوش کرداراور خوش اطوار ہونے کا محرک اگر کوئی مفاد بن رہا ہے …. تو سب کچھ بناوٹ ‘ لگاوٹ ، سب کچھ تکلّف‘ تردّد! درحقیقت جہاں اپنے مفاد کا سایہ پڑ جاتاہے ‘ وہاں اخلاص کا شجرِ سایہ دار سوکھ جاتا ہے۔ دنیا دار کیلئے اخلاص محض ڈکشنری کاایک لفظ ہے …. اور اہل محبت کیلئے اخلاص بجائے خود ایک مکمل لغت ہے…. ایسی لغت جس میں ہر لفظ کا ترجمہ ہی نہیں ….معانی بھی مل جاتے ہیں ….تہہ در تہہ…. سلسلہ در سلسلہ۔ صبر کے معنی پانے کیلئے بھی اخلاص کی طرف رجوع کرنا پڑتاہے ۔ اخلاص …. محبت کی عطا ہے ۔جب تک محبت کا حال طاری نہ ہو ‘ انسان کے کردار میں اخلاص شاملِ حال نہیں ہوسکتا۔ دراصل سزا وارِ محبت ہی سزا وارِ صبربھی ٹھہرتاہے…. ہر کس وناکس میدانِ صبر کا شہسوار نہیں ہو سکتا۔کمزور دل لوگ صبر کو کمزوری سمجھتے ہیں۔حالانکہ صبر عالی ہمت اورعالی ظرف لوگوں کا cup of tea ہے۔ کم ہمت اور کم ظرف کیا جانے ….صبر کیا ہے؟یہ صرف صبر ہے‘ جواخلاص کے ہمراہ چلنے کی سکت رکھتا ہے …. اور علم کے دروازے پر جا دستک دیتاہے۔ صبر کا میدان اتنا وسیع ہے کہ کئی فرات اور کئی صدیاں نگل لیتاہے ۔ صبر جب اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو رضا تک پہنچ جاتاہے ….یعنی میدانِ کربلا تک !! صبر کی انتہا ولائت کی ابتدا ہے ۔
اِخلاص اور صبرکے سوا انسان کا ہر جوہر زمین و زمن کے حصارمیں ہے۔ زمانے کے خسارے سے بچنے کیلئے ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ساتھ حق اور صبر کی تلقین کو لازم قرار دیا گیا ہے۔وتواصو بالحق وتواصو بالصّبر کے مصداق صبر
اور حق لازم و ملزوم ہیں ۔اہل ِصبر ….اہلِ حق ہیں ۔ صبر کرنے والااپنے اختیار سے برضاورغبت دست کش ہونے کی قدرت رکھتاہے ۔ جب تک کوئی اپنے اختیار کے ساحل سے کنارہ کش نہ ہو…. زندگی کے بحرِ تلاطم میں اپنے مالک کے دستِ قدرت کا مشاہدہ نہیں کر سکتا۔ صبر …. واقعاتِ عالم کو مالک کی منشاءکے مطابق ترتیب میں رکھنے اور دیکھنے کا نام ہے ۔ صبر کرنے والا اشیائے عالم کی اصل حقیقت و ماہیت کا ادراک کر لیتاہے ۔ صبر کی آنکھ وقت اور مادے کے اندر تک دیکھ لیتی ہے ۔ وقت ہی قوت ہے …. اگر ترتیب میں آجائے ۔ وقت اور مادہ لازم وملزوم ہیں …. اس لئے مادے کی حقیقت جاننے کیلئے بھی وقت اور واقعات سے آزاد ہونا پڑتاہے ۔ جو وقت سے آزاد نہیں ہوتا‘وہ مادے کی زد میں آجاتاہے …. اور جو مادے کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے‘ وقت کے گردشی پہیّے کی گرفت میں آجاتا ہے ۔ خلاصہ¿ کلام یہ کہ مادے سے دست کش ہونے والا وقت کی دست برد سے آزاد ہوجاتاہے …. سلطانِ زمانہ کی معیت میں آجاتاہے …. زمین و آسمان کے حصار سے نکل جاتاہے۔
کلام میں صبر اختیار کرنے کاایک انعام تفکر ہے….کیونکہ جب تک کوئی بول رہا ہے ‘ سوچ نہیں سکتا…. اورجب کوئی سوچنا شروع کردے تو بول نہیں سکتا۔ کلام بھی ایک اِختیار ہے…. جب تک اس اختیار کو ترک نہ کیاجائے ‘ نوائے سروش سنائی نہیںدیتی ہے ۔کلام میں صبر …. خاموشی سے شروع ہوتاہے اور خوش خُلقی تک پہنچ جاتاہے…. اور بے صبری کا اظہار بحث سے شروع ہوکر بدکلامی تک جا پہنچتاہے۔صبر جہاں انفرادی پختگی کو ظاہر کرتا ہے ‘ وہاں معاشرے کی مجموعی بلوغت کا اظہار بھی ہے۔ درحقیقت صبر بالغ نظری ہے۔ جوشخص اپنے کام اورکلام میں صبر اختیار نہیں کرتا …. وہ ہروقت ایک ہیجانی اور ہذیانی کیفیت میں ہوتاہے ۔ اس کا ہر عمل …. ردِّعمل ہوتا ہے …. اس لئے ردّی عمل ہو جاتا ہے۔ ردِّعمل تعلقات کو قطع کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ ردِّ عمل کی زد میں آنے سے تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں اور طبیعتیںکبیدہ ۔ جو شخص اپنی رائے اور ردِّعمل ظاہر کرنے میں بے حجاب اور بے قرار ہوجائے ‘ وہ تعلق برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ گویاتعلق محفوظ رکھنے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنی رائے محفوظ رکھی جائے۔ ردِّعمل میں گرفتارشخص ہر وقت عجلت میں ہوتاہے ….اورعجلت پسند دوسروں کو سزا دینے میں بھی عجلت اختیار کرتاہے …. وہ کسی کو مہلت دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ سزا دینے میں عجلت کا مظاہرہ کرنے والا دوسروں پر اصلاح کے دروازے بند کر دیتاہے ۔ وقت مہلت ِ عمل ہے ….اورعجلت پسند انسان وقت کی ناقدری کا مرتکب ہوتاہے …. اس لئے اُس سے وقت واپس لے لیا جاتاہے …. اُس کی مہلتِ عمل چھن جاتی ہے ۔ جو کسی کو مہلت نہ دے ‘ اُسے بھلا کون مہلت دے۔ مہلت دینا….دراصل مہلت پاناہے۔ مہلت دینا…. اصلاح کرنے کی ایک تدبیر کرنا ہے ۔
صبر عظمت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے….یہ انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہے۔ اِس راستے پر قدم رکھنا صرف راست باز انسانوں کاحق ہے ۔راستی پر پایہ¿ اِستقامت سے قیام کرنے والے ہی راہِ مستقیم پرمتمکن ہیں۔ راہِ مستقیم استقامت کا راستہ ہی تو ہوتاہے …. اُن لوگوں کا ساتھ دینے اورپھر نبھانے میںاستقامت کا راستہ ‘ جو ہم سے پہلے صراطِ مستقیم پر ہیں ۔ اِس راستے کا دستور کل تک موجود تھا‘ تو آج بھی بدستور موجود ہے…. راستہ موجود ہے‘ تو اُس راستے کے راہرو بھی موجود ہیںاور راہبربھی !! درحقیقت موجود سے لاموجود تک جانے کیلئے یہی ایک راستہ ہے جوسیدھا ہے ….اور سیدھے راستے پر استقامت پانے والے ہی انعام یافتگان ہیں۔
کیا خوب قولِ برحق ہے اس ہستی ؒ کا…. جس کی تمام عمر یہی بتانے میں تمام ہوئی کہ …. ” سب سے بڑی قوت ‘ قوتِ برداشت ہے “….کتنی بڑی قوت ہوگی اس کردار کے پسِ پشت ….جو ہر ناقص و ناکس کی پشت پناہی کرتی رہی۔ سلام ِ محبت ہے‘ اُس صاحبِ قوتؒ پر ….اورہدیہ¿ ِدرُودہے ‘ اُس سچے صاحب پر‘ جو سب قوتوں کا رزق تقسیم کرنے والاہے…. اور سجدہ¿ِ تعظیم اُس مالک کی ذات کیلئے ‘جو سب قوتوں کا خالق بھی ہے اور رازق بھی!!
ڈاکٹر اظہر وحید


buhat khobsorat lines hn i like thus author alot