اے خاموشی کی زبان سننے والے مالک‘ اے اپنی مخلوق کے ہر حال سے ہمہ حال با خبر رہنے والے مولا‘ ہم پر رحم فرما ! تُو ہی تو جانتا ہے کہ ہم کس چیز سے محروم ہو رہے ہیں، اے بنانے والے ہمیں پھر سے بنا…. ہم شاید ہم نہیں رہے۔ سب کچھ وہی ہے لیکن سب کچھ بدل سا گیا ہے۔ہمارا آسمان خوبصورت ہوتا تھا مگر اب وہی آسمان ہمارے سر پر وزن ڈال رہا ہے۔ پاﺅں تلے سے زمین نکلا چاہتی ہے۔ ہم تیرے دیرینہ التفات سے محروم سے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہماری زندگی تیرے محبوب کے بتائے ہوئے طریقے سے بھٹک گئی ہے….
ہم انسان کی محبت سے محروم ہیں…. انسان، انسان کے قریب آئے تو یوں لگتا ہے کہ خطرہ خطرے کے قریب آ گیا ہے …. بھائی، بھائی کے لیے خوف پیدا کر رہا ہے۔ ہم پر بے یقینی کی وبا نازل ہو چکی ہے۔ ہر آدمی ہر دوسرے آدمی سے ڈر رہا ہے۔ ہم عزمِ کوہ کن کی باتیں کرتے ہیں لیکن ہم حوصلہ شکن واقعات سے روشناس کر دیے گئے ہیں۔ جس قوم کے دل سے علماءاور اُدبا ءکا احترام ختم ہو جائے، اس کے انجام سے ڈر سا لگتا ہے۔
میرے مولا ! تُو ہی ہمیں اندھیروں سے نکال…. ہمیں روشنی دکھا، ہمیں راستہ دکھا…. اپنی محبت کا راستہ…. کامیابیوں کا راستہ….یقین کی منزل دور ہوتی جا رہی ہے …. تیرا فضل چاہیے …. تُو نے ہمیشہ ہمارے ساتھ مہربانی کی…. عظیم مہربانی، بڑا احسان ۔ تیرا فضل ہمیں میّسر رہا …. اب کیا ہو گیا؟ہم نے شاید شکر کرنا چھوڑ دیا ….ہم گلہ اور شکایت کرنے والی قوم بنتے جا رہے ہیں…. ہمارا مستقبل محرومی نہ ہو جائے…. میرے مولا ! تیرا اپنا ارشاد ہے کہ ”اگر تم شکر کرو گے تو نعمتوں میں مزید اضافہ ہو گا“…. ہم توبہ کرتے ہیں ، ناشکرگزاریوں سے توبہ ، احسان فراموشی سے توبہ ….
میرے آقا ! تیرا شکر ہے کہ تُو نے ہمیں اپنے پیارے نبی کی اُمت سے پیدا کیا…. ہر احسان سے بڑا احسان….یہی احسان ہے …. ہمیں اپنی اس عنایت کی قدرکرنے کا شعور بخش…. میرے مالک ! تُو نے ہمیں اس ملک کی نعمت سے نوازا…. یہ صرف تیرے فضل اور تیری شفقت کے سبب سے ممکن ہوا…. تُو نے دس کروڑ غلام مسلمانوں کو آزادی کا شعور اور آزادی کے حصول کا حوصلہ بخشا…. دس کروڑ غلام مسلمان آزاد مملکت حاصل کر گئے اور آج دس کروڑ آزاد مسلمان اس مملکت اور اس کی آزادی کی حفاظت کرنے کا حق ادا نہیں کر رہے….
میرے اللہ ! ہم تیرے سب احسانات کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ تُو نعمتوں میں اضافہ فرما…. ہمیں ایک منزل کے حصول کے لیے آمادہ¿ سفر کر…. ہم مختلف گروہوں میں بٹے جا رہے ہیں…. ہمارے ہاں کچھ لوگ ظالم ہیں ‘ کچھ مظلوم۔ ہم پر رحم فر ما…. جب محروم اور غریب اس مقام تک پہنچا دیا جائے کہ وہ تیری رحمت سے مایوس ہونے لگے …. تو وہ وقت اُمراءکے لیے آغازِ عبرت کا وقت ہوتا ہے۔ یا اللہ! جنہیں دولت دی ہے انہیں سخی بنا اور جنہیں غریب بنایا انہیں اپنے قریب تو رکھ۔
اے شفیق و رحیم آقا ! ہم ڈرتے ہیں کہ ہمیں اپنے اعمال کے حوالے نہ کر دیا جائے …. ہمیں اعمال کی عبرت سے بچا ہمیں اس بُڑھیا کے انجام سے بچا جس نے محنتِ شاقہ سے سُوت کاتا اور آخر میں اسے الجھا دیا۔ ہمیں رائیگاں محنتوں سے دو چار نہ ہونے دے ، میرے خدا…. ہم پر کسی بیرونی دشمن نے نہیں ‘ اندرونی دشمن نے عذاب ڈالا…. سفید پوش طبقے کی کمائی تیری کتاب چھاپنے والے ادارے میں لُٹ گئی…. فنانس کمپنیاں غریبوں سے ظلم کر گئیں …. میرے مولا! حالات بہتر فرما…. تُو تو مسبّب ہے۔ سکون کے اسباب پیدا فرما….
یہ ملک تیرا ہی ہے …. تیر ے لیے‘ تیرے نام کی عظمت کے لیے ‘ تیرے ہی فضل سے بننے والا یہ ملک تیرے اور صرف تیرے ہی کرم سے قائم رہ سکتا ہے …. تُو اکابرینِ ملت کے دلوں کو ہدایت سے منوّر فرما، تاکہ ملت میں وحدتِ کردار پیدا ہو سکے۔ دشمن کبھی طاقتور نہیں ہوتا ، بس دوست ہی چھوڑ جاتے ہیں…. اے اللہ ! ہم التجا کرتے ہیں ‘ ہم تیرے دربار میں دعا کرتے ہیں کہ ہم پر رحم فرما….
دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ ہم ڈرتے ہیں اُس دن سے ‘ جب ہمارے اعمال ہماری عبرت بن کر ہماری راہ میں کھڑے ہوں گے اور پھر اس کے بعد کوئی راستہ نہیں ہو گا…. یا الہٰی ! تُو ہماری منزل کو آسان فرما ہمیں توبہ کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ ! ہمیں اپنے ماضی ‘ اپنے حال اور اپنے مستقبل پر خوش ہونے والی قوم بنا…. ہمیں وسوسوں سے باہر نکال۔ ہمیں مغرور اور مایوس ہونے سے بچا۔ ہم مال جمع کرنے والی اور گننے والی قوم بنتے جا رہے ہیں، ہم چھینا جھپٹی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ عافیت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
کامیاب ریاست تو وہی ہے کہ ایک خوبصورت عورت ‘ زیورات سے لدی ہوئی ‘ تنِ تنہا ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کر جائے اور اسے کوئی خطرہ نہ ہو…. ایک ایسا معاشرہ جس میں نہ کوئی مظلوم ہو ‘ نہ محروم…. میرے اللہ ! یہ دور کبھی آئے گا؟ تُو چاہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔ تُو نے تو حرفِ ”کُن“ کہنا ہے اور پھر بدل جائے گا نظامِ ہستی …. تیرے ہی کرم کی بات ہے…. تیرے ہی فضل کا سوال ہے…. تیرے ہی رحم کا آسرا…. تیری ہی عنایات کا سہارا ہے….
تُو ہمارے دلوں کو اپنے نور سے زندہ کر…. ہماری راتوں کو اپنی یاد سے آباد کر …. ہمیں سوزِ دروں سے نواز دے…. ہمیں نمائش اور آلائش سے بچا ۔ ہم پر نازل
فرما‘ اپنے کرم کی بارش…. ہم پر آسان فرما ‘ اپنی معرفت کی منزل …. ہمیں ایک بار پھر وہی جامِ اُلفت دے …. آباد کر اُجڑے ہوئے آشیانے …. ایک بار پھر اس قوم کو سنبھلنے کا موقع دے…. ہمیں ایک درخشاں تاریخ لکھنے کا موقع دے…. ہمیں تاریخِ اسلام میں ایک روشن باب کا اضافہ کرنے والا بنا۔
اے مالک ! تُو ہمیں وہ زندگی دے کہ ہم بھی خوش رہ سکیں اور تُو بھی ہم پر راضی رہے …. اے اللہ ! ہماری زندگی کے تقاضے اور دین کے تقاضوں میں جو فرق آ چکا ہے ‘ اسے دُور فرما۔ ہماری زندگی کی ضروریات اور ہیں اور دین کی ضرورت اور ہے ۔
یا الہٰی ! ہمیں لیڈروں کی یلغار سے بچا …. ہمیں ایک قائد عطا فرما…. ایسا قائد جو تیرے اور تیرے حبیب کے تابع فرمان ہو…. ہم اس کی اطاعت کریں تو تیری ہی اطاعت کے حقوق ادا ہوتے رہیں۔ مولا ! اس قوم کو میزان کا محافظ بنا…. عدلیہ کا میزان ‘ تجارت کا میزان ‘ سیاست کا میزان ‘ علم و تعلیم کا میزان اور امانتوں کی حفاظت کے اداروں کے نظام کا میزان ….
اے مولا ! تُو بن مانگے دینے والا ہے اور ہم لا علم‘ یہ بھی نہیں جانتے کہ تجھ سے کیا مانگا جائے۔ ہمارے لیے جو بہتر ہے وہ بن مانگے دے دے اور جو ہمارے لیے نامناسب ہے ‘ اس کے مانگنے کی توفیق ہی نہ دے۔ یا اللہ! اس قوم کے دن دیانتدارانہ محنت میں گزریں ….اس قوم کو رزقِ حلال سے متعارف کرا …. اس کی راتوں کو اپنے ذکر سے آباد رکھ …. جس قوم سے نالہ¿ نیم شب اُٹھ جاتا ہے ، اس سے سکون اُٹھ جاتا ہے …. یا اللہ ! ہمیں اپنے خوف کے علاوہ ہر قسم کے خوف سے آزاد رکھ …. یا اللہ ! آدمی کا آدمی کے دل میں احترام پیدا کر …. ہم میں ایک عظیم قوم بننے کی صفات پیدا کر…. والدین کو اولاد کی گستاخی سے بچا ، اولاد کو والدین کی ناراضگی سے بچا …. ہمارے مستقبل کو ہمارے حال سے بہتر بنا …. ہمیں وعدے پورے کرنے والی قوم بنا ۔ ہمیں مخالفین کو معاف کرنے کا حوصلہ عطا فرما۔ ہمیں اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے کی جرا¿ت عطا فرما ….
اس قوم کو ایک قوم بنا…. الہٰی ! اپنی توحید کا واسطہ ‘ مسلمانوں میں وحدت پیدا فرما۔ تیرے حبیب کی اُمت ‘ تیرے حبیب کی اُمت کہلانے کی مستحق ہو جائے …. یاالہٰی ! سادہ اور صداقت والی زندگی عطا فرما …. اور سب سے بڑی بات …. تیرے کرم کی انتہا چاہتے ہیں کہ تجھ سے تیرے محبوب کی محبت مانگتے ہیں
حضرت واصف علی واصفؒ کی تصنیف ” حرف حرف حقیقت “سے انتخاب

