الہٰی واسطہ رحمت کا تجھ کو
الٰہی واسطہ وُسعت کا تجھ کو
الٰہی واسطہ عظمت کا تجھ کو
الٰہی واسطہ قوّت کا تجھ کو
الٰہی واسطہ شوکت کا تجھ کو
الٰہی واسطہ عزت کا تجھ کو
خطائیں بخش دے ساری الٰہی
مصیبت سر پہ ہے بھاری الٰہی
ہر اک سینے میں دل گھبرا رہا ہے
کہ شیرازہ بکھرتا جا رہا ہے!
حوادث پر حوادث آ رہے ہیں
کیے پر اپنے ، ہم پچھتا رہے ہیں
وطن کی جان ہی پر بن گئی ہے
بڑی دولت تھی ہاتھوں سے لُٹی ہے
مسلماں کا لہو ارزاں ہوا ہے
چمن توحید کا ویراں ہوا ہے
مسلماں کو عطا کر زورِ حیدرؑ
صفِ دشمن کو تو زیر و زَبر کر!
تجھے سب اولیاءکا واسطہ ہے
شہیدِؑ کربلا کا واسطہ ہے!
علی المرتضٰےؑ کا واسطہ ہے!
محمد مصطفےٰ کا واسطہ ہے!
مِرے منعم کر اب حاجت روائی
مِرے ہادی بس اب ہو رہنمائی
ہٹا دے سب کی رغبت ماسِوا سے
محبت ہو تو محبوبِ خدا سے
بھروسہ غیر کا ہم سے اُٹھا لے
ہمارا بن ‘ ہمیں اپنا بنا لے !
اِلٰہی بخش دے سب کی خطا کو!
قبولیت ملے میری دُعا کو!
حضرت واصف علی واصفؒ کے شعری مجموعے ”شب چراغ“ میں ”دعا“ سے حسب ِ حال چند اشعار کا انتخاب


BU HAT HE ACHE OR AJ KA AGE KA MUTABAK HA