آج کا انسان نہ جانے کتنے وسوسوں اور اندیشوں کا شکار ہے اور ہر لمحہ کوئی وسوسہ اور کوئی نہ کوئی اندیشہ اُس کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔ جب انسانی ذہن میں وسوسہ اور اندیشہ اپنا گھر کر لے تو انسان کی بہت ساری خصوصیات اور خوبیاں ماند پڑ جاتی ہیں اور وہ اپنے ذہن کو یکسوئی کے ساتھ استعمال میں نہیں لا پاتا۔ انجام کار ہر کام ناکامی ہوتا چلا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان بظاہر کامیاب لیکن حقیقتاََ ناکامی کا سفر کر رہا ہوتا ہے۔ ہم ایک بھِیڑ اور رش کی شکل اختیار کر چکے ہیں،قوم اور کارواں کی کوئی صورت عملی طور پر نظر نہیں آتی۔ آخر کیا وجہ ہے؟ کیا ہم ایک قوم کی صورت میں نہیں بدل سکتے؟ کیا ہماری سوچ اور عمل کی سمت متعین نہیں ہونی چاہئے …. کیا ہمارافکرو عمل ایک نصب العین کے لیے نہیں ہونا چاہیے؟ آپ یہ سوال جس انسان سے بھی پوچھیں گے ‘جواب ہمیشہ ہاں اور ہاں کی شکل میں ہی آئے گا لیکن یہ صرف اور صرف ایک قول کی حد تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ ہمارا عمل عام طور پر اِس کے برعکس نظر آئے گا۔ یہی المیہ ہے ”آج کے انسان“ کا اور یہی ہمارے لیے ایک لمحہ¿ فکریہ ہے۔ آخر ہم کب تک جھوٹی اور بہروپ والی زندگی جیتے رہیں گے اور کب تک اپنے آپ کو اور پھر سب کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔ کیا یہ ایک لا متناہی سفر ہے؟ کیا اس کا کوئی انجام ہے؟ آیا اس کے لیے کوئی Dead line یا وقت مقرر ہے؟ شاید نہیں ۔ اگر نہیں تو کیوں؟ آخر کیوں اور کب تک؟ ہمیں سوچنا چاہئے…. یا یوں کہیے کہ ہمیں سوچنا پڑے گا کہ آخر ہم جو سفر کیے جا رہے ہیں ہمیں ناکامی کے اندھے کنویں میں تو نہیں لے جا رہا؟ اور حقیقتاََ ہم ناکامی کے اسباب تو نہیں اکٹھے کر رہے…. کیونکہ اگر کامیابی واقعی کامیابی ہے تو پریشانی کیوں ہے؟ اگر پریشانی ہے تو پھر یہ کیسی کامیابی ہے؟ یعنی یہ اصل کامیابی نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتی جب تک انسان خوش اور مطمئن نہیں ہو گا ‘ وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
آج کا انسان زندگی بسر نہیں کر رہا‘ زندگی اسے بسر کر رہی ہے۔ زندگی بِتانہیں رہا ‘ زندگی اسے بِتا رہی ہے۔ انسانی رویے انسانوں کو کھا رہے ہیں۔ زندہ لوگوں کو مردہ زندگی گزارنے پر مجبور کر رہے ہیں،پھر بھی آج کا انسان ہر قدم پر کامیابی کا نعرہ بلند کرنے پر بضد ہے اور بظاہر کامیابی کا سہرہ اپنے سر پہ سجائے ہوئے ہے۔
آج کا انسان باخبر ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے‘ مگر بھول جاتا ہے کہ میں نے تو ہر انسان کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اپنے گھر والوں کو‘ ماں باپ کو‘ بہن بھائیوں کو اور گردونواح کے جیتے جاگتے انسانوں کو‘ جو ہر لمحہ اس کی توجہ کے مستحق ہیں اور ایک آس‘ امید اور یقین کے سہارے جئے جا رہے ہیں کہ شاید کوئی اُن کا پُرسانِ حال ہو۔ اُن کو اپنا سمجھے۔ اُن کے دکھ سنے اور اگر ہو سکے تو مداوا کر سکے کیونکہ ہمدرد تو بہت ہیں ‘ کوئی چارہ گر نہیں ہے۔ ”آج کے انسان“ کو کیا معلوم کہ اُس کے دو میٹھے اور ہمدردی بھرے بول کسی دوسرے انسان کے لیے ”آبِ حیات“ سے کم نہیں۔ اگر ”آج کا انسان“ آج کے انسان کو سمجھ لے اور ہمیشہ دوسرے کے لیے مثبت سوچ‘مثبت فکر اور مثبت عمل کو اپنا لے تو آج کے انسان کے اپنے اور دوسرے انسانوں کے زیادہ تر مسائل ختم ہو سکتے ہیں اور بالآخر اندیشے اور وسوسے جیسی مہلک بیماری سے بھی بچا جا سکتا ہے اور آج کے انسان کی زندگی حقیقی کامیابی سے بھی ہمکنار ہو سکتی ہے۔
”آج کا انسان“ آج کے انسان کے ساتھ رہتا ہے ‘جسمانی طور پر…. لیکن” آج کا انسان“ آج کے انسان کے ساتھ نہیںہوتا، نہ ذہنی طور پر‘ نہ روحانی طور پر…. اس لیے ایک دوسرے کی برکات ‘ عنایات اور فیوضات سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا، ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان‘ انسان کے ساتھ رہے اور ذہنی ‘ جسمانی اور روحانی طور پر فیضیاب نہ ہو سکے۔ کل کا انسان شاید اس لیے ایک اچھی ‘ بھر پور ‘ کامیاب اور خوشحال زندگی گزار گیا کہ وہ تمام ترخصوصیات کے ساتھ ذہنی ‘ جسمانی اور روحانی طور پر اپنے ساتھ اور اپنے دَور کے انسان کے ساتھ تھا اور تمام فیوض و برکات سے نوازا جا رہا تھا …. اُس کا ذہن اندیشے او ر وسوسے کا مسکن نہیں تھا۔ وہ کل بھی زندہ تھا ‘ آج بھی زندہ ہے اور آنے والے کل میں بھی ایک مثبت سوچ ‘ مثبت فکر اور مثبت عمل بن کے حیاتِ جاوداں کی شکل میں زندہ رہے گا۔ سمجھنے والے کے لیے بنیادی نقطہ ایک ہی ہے اور نہ سمجھنے والے کے لیے کوئی وحی‘ کوئی آیت ‘ کوئی بات‘ کوئی قول کوئی معنی نہیں رکھتا۔

