All posts in Edition 7

علم …. حلم ….اور صبر

علم ….ایک دشت ِ بے اماں ہے ….بے سر وسامانی کا عالم ہے ….اس دشتِ بے اماں میں کسی جان کو امان اُس وقت تک نہیں ملتی جب تک وہ شہر ِ علم میں نہ جا بسے …. یا اُس شہر کی یادہی اُس میں نہ آن بسے !!دشت ِعلم میں جب شہر آباد ہو جاتا ہے‘ تو جان کوبھی امان مل جاتی ہے اورجہان کوبھی ۔ کُل جہان کا سرو سامان اور اِس کی امان …. تہذیب ‘ اخلاق اور تمدّن …. سب شہرِ علم کی دین ہے ….اورشہرِ علمکی اِس دین کو دِین کہتے ہیں۔

دُعَا

الہٰی واسطہ رحمت کا تجھ کو
الٰہی واسطہ وُسعت کا تجھ کو
الٰہی واسطہ عظمت کا تجھ کو
الٰہی واسطہ قوّت کا تجھ کو

نعت کہوں میں کیسے

اللہ ہو گر اُس کا ثنا گر ، نعت کہوں میں کیسے

میں قطرہ وہ ایک سمندر ، نعت کہوں میں کیسے

اِلہٰی ، یا اِلہٰی یا اِلہٰی

اے خاموشی کی زبان سننے والے مالک‘ اے اپنی مخلوق کے ہر حال سے ہمہ حال با خبر رہنے والے مولا‘ ہم پر رحم فرما ! تُو ہی تو جانتا ہے کہ ہم کس چیز سے محروم ہو رہے ہیں، اے بنانے والے ہمیں پھر سے بنا…. ہم شاید ہم نہیں رہے۔ سب کچھ وہی ہے لیکن سب کچھ بدل سا گیا ہے۔ہمارا آسمان خوبصورت ہوتا تھا مگر اب وہی آسمان ہمارے سر پر وزن ڈال رہا ہے۔

پیلو پکیاں

بہار کا موسم‘ پیار کا موسم ‘ گم شدہ چہروں کے دیدار کا موسم ‘ تھل ‘ بیلے ‘ بار کا موسم ‘پیلو پکنے کا موسم در اصل وصالِ یار کا موسم بڑے انتظار کے بعد آتا ہے۔ خواجہ غلام فریدؒ نے ” پیلُو “ کو تکمیلِ عرفان بنا دیا۔

خیر مجسّم ﷺ

ریڈیو پاکستان لاہور سے ربیع الاول کی مناسبت سے سیرتِ طیّبہ پر یہ پروگرام منعقد کیاگیا۔اس تقریب کی نظامت محترم عبدالجبار شاکر ( مرحوم ) نے کی۔اس تقریب میں حضرت واصف علی واصف ؒ نے ©©©”خیرِ مجسم ﷺ….مکارم اخلاق کی تکمیل“ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔اس نشست میں سیرت طیبہ کے تقریباً ہرRead more…

اِقتباساتِ گفتگو

سوال : قرآن مجید میں بیان ہوا ہے کہ ”تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرتا ہوں“
انسان نے تو اللہ کو یاد کرنا ہوتا ہے…. اللہ تعالیٰ انسان کو کیسے یا دکرتا ہے؟

منقبت بحضور داتا گنج بخش ؒ

تو ہے نورِ احمدِ مصطفےٰ ‘ ہمہ وقت صورتِ مرتضیٰؑ
ترے در سے راہِ خدا ملی ‘ تیرا نام داتاؒ علی علی

حضرت واصف علی واصفؒ کی دعائیں

دنیا کی زندگی اور اس کے فوائد و لوازمات عارضی اور ناپائیدار ہیں کہ انسان کی آنکھ بند ہوتے ہی دنیا خواب و خیال ہو جاتی ہے۔ آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی اور پائیدار ہے۔ اس کے باوجود انسان کا دل دنیا کی آرزوﺅں‘ خواہشوں اور چاہتوں سے لبریز رہتا ہے۔ وہ تمام عمرRead more…

حضرت واصف علی واصف ؒ ….سوانحی خاکہ

ابتدائی تعلیم خوشاب میں حاصل کی۔ جون ۲۴۹۱ءمیں گورنمنٹ ہائی سکول خوشاب سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد آپؒ اپنے نانا کے پاس جھنگ چلے آئے۔ وہ ایک ممتاز ماہرِتعلیم تھے اور جوانی میں قائدِ اعظمؒ کے زیرِ نگرانی امرتسر میں مسلم لیگ کے لیے کام کر چکے تھے۔

سعدی ؒ اور واصف ؒ

شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بزرگ کے بارے میں سنا کہ وہ سفرِ حجازمیں ہر ایک قدم کے بعد دو رکعت نماز ادا کرتا تھا۔وہ راہِ خدا میں اس قدر گرم سفر (پر جوش وپر سوز)تھاکہ دوران سفر ببول کا کانٹا بھی پاﺅں سے نہ نکالتا تھا

واصفؒ خیال

معروف صوفی دانشور‘شاعراور صاحب طرز ادیب حضرت واصف علی واصفؒ سے کون واقف نہیں۔ اُن کا آبائی تعلق ضلع خوشاب سے تھا تاہم ان کازیادہ وقت شہرِ ادب لاہور میںگزرا۔ واصف صاحبؒ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور انہوں نے 1962 ءمیں لاہور کے تاریخی بازار پرانی انار کلی کے چوک کے قریب نابھہ روڈ پر ”لاہور انگلش کالج“ کے نام سے ایک نجی تعلیمی ادارہ قائم کیا ۔

پھیلتی جائے بات کی خوشبو

خوشبو کی طرح پھیلتی جائے ہے تِری بات
پیہم ترے بیان سے اُٹھتے ہیں حجابات

آج کا انسان

آج کا انسان نہ جانے کتنے وسوسوں اور اندیشوں کا شکار ہے اور ہر لمحہ کوئی وسوسہ اور کوئی نہ کوئی اندیشہ اُس کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔ جب انسانی ذہن میں وسوسہ اور اندیشہ اپنا گھر کر لے تو انسان کی بہت ساری خصوصیات اور خوبیاں ماند پڑ جاتی ہیں اور وہ اپنے ذہن کو یکسوئی کے ساتھ استعمال میں نہیں لا پاتا۔

نعت شریف

خاکِ کفِ پا اُن کی اور اُس پہ جبیں میری
اے کاش نکل جائے اب جان یہیں میری

نعت ِ رسول ِ مقبولﷺ

ذکرِ خیر الوریٰ مجتبیٰ چاہئے

OPPRESSION

Oppression is directly linked to the emotions of the oppressed.  No action of the oppressor can be termed tyrannical if the oppressed is not disturbed by it.  Most of the oppression in the world is so subtle that the oppressed is led to think it is a part of his likings.  At times the oppressedRead more…

RIVER AND THE SEA

The traditional images of the “river” and “sea” have been re-introduced recently in serious writings by Wasif Ali Wasif in his latest collection of essays called Heart as A River and The Sea (Dil Darya Samandar).  He is basically interested and involved in the situation of the human heart in the changing environment of ourRead more…