All posts in Edition 12

حرف ِآغاز

کام میں اخلاص یہ ہے کہ اسے اپنی ذات کا حصہ بنالیا جائے … مگر اپنی اَنا کا نہیں۔ کام میں اِخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ جب سونپ دیا جائے تو اِسے قبول کرنے میں متامّل نہ ہو… جب واپس لے لیا جائے تو مزاحم نہ ہو …اور جب اپنے سے بہتر انسان میسر آجائے تو اُس کے سپرد کر دینے میںمتردّد نہ ہو۔

معراج کی رات

چار سُو نُور کی برسات ہوئی آج کی رات
احد اور احمد ﷺ کی ملاقات ہوئی آج کی رات

علی کرم اللّٰہ وجہہ

علی ؑ عرفان کا در ہے‘علی ؑ گویا ولی گر ہے
علی ؑمستی کا ساگر ہے‘ علی ؑوارثِ پیمبرﷺ ہے

اقبال ؒ اور خودی

میرا آج کا موضوع ہے ’’اقبالـؒ اور خودی‘‘
پیر رومیؒ کی قیادت میںعشقِ مصطفیٰ ﷺ کی عظیم دولت سے مالا مال ہو کر اقبالؒ جب عرفانِ ذات کے سفر پر روانہ ہوا تو اُس پر وسیع و جمیل کائنات کے راز کچھ اس طرح منکشف ہونا شروع ہوئے‘جیسے عجائبات کا دبستاں کھل گیا ہو۔

خواجہ معینُ الدّین

آفتابِ رُوئے احمدﷺ کی درخشندہ کرن
ماہتابِ کشورِ عرفاں ‘معینُ الدّیں حسنؒ

حقوق

ملکی سطح پر دیکھیں یا بین الاقوامی سطح پر‘ تادمِ تحریر ہر طرف ہنگامے افراتفری اور شورش کی بنیادی وجہ مقتدر طبقوں کی طرف سے زیردست طبقوں کے حقوق کی پامالی ہے۔

دولتِ سکون

دولتِ سکون کے لئے کوئی خاص نسخہ تو نہیں۔کیونکہ یہ دولت نصیب سے ملتی ہے‘ جیسے انسان کو خوبصورت چہرہ نصیب سے ملتا ہے۔لیکن بالعموم دولتِ سکون حاصل کرنے کے دوچار اصول ہیں۔آپ غور کر لیں:

اِضطراب

حقوق وفرائض کی ادائیگی میں انتہائی عدم توازن نے پاکستانی معاشرے میں ایک ہیجانی کیفیت برپا کر دی ہے ۔ دورِ حاضر ایک ایسے اضطراب سے عبارت ہے جو آج سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

حضرت واصف علی واصفؒ کی محفلیں

وہ اصحاب جو واصفؒ صاحب سے بِالوجود موجودگی کے دوران ملاقات کا شرف حاصل نہیں کر سکے، اکثر واصفؒ صاحب کی محفلوں کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔ایسے حضرات کے لیے واصفؒ صاحب کی روحانی محفلوں کی کشفی کیفیت کو کیسے بیان کیا جائے؟

روزے کی حقیقت

حضرت علی بن عثمان الجلابی ثم الہجویری المعروف داتاگنج بخش ؒکی ہزار سالہ قدیم شہرہ ٔآفاق تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ سے ایک باب… یکے از نوادراتِ علم وعرفانیات… رمضان المبارک کی مناسبت سے قارئین کی نذر !
یہاں یہ ذکر قابلِ محل ہوگا کہ حضرت واصف علی واصف ؒ اپنی محافلِ گفتگو میں ’’ کشف المحجوبــ‘‘ کااکثر ذکر کرتے ،

گفتگو

رمضان شریف کے لئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اگر آپ قرآن پڑھ نہیں سکتے تو رمضان شریف میں ایک بار قرآن ضرور سُن لو۔یہ ہر آدمی اپنے لئے فرض بنا لے

روزے کے آداب

روزہ او رسجدہ انسان کو اللہ کے بہت قریب کر تے ہیں۔

واصف ؒشناسی اور عصر ِحاضر

واصفؒ شناسی کے سفر پر میرا پہلا پڑاؤ اُن کا گھر فردوس کالونی ،گلشن راوی لاہور تھا۔کاشف اُن کا فرزند‘ میرا میزبان تھا۔کاشف نے واصف ؒصاحب کے بارے میں موجود دستاویزات تک مجھے رسائی دی ۔ان کی تحریروں کے مطالعے کے دوران میری نظر روزنامہ ـ ’’ نوائے وقت ‘‘ کے ایک ایڈیشن پر رک گئی:
’’پاکستان نور ہے ،نور کو زوال نہیں … واصف علی واصف ! ‘‘

خِرد کی گُتھیاں سلجھا گیا وہ

خرد کی گتھیاں سلجھا گیا وہ
جنوں کا راستہ دکھلا گیا وہ

Shaping the Future of Pakistan

پاکستان میںتعلیمی نظام کیسے درست کیا جاسکتاہے
چند تجاویز…تعلیماتِ واصفؒ کی روشنی میں !!

گلہائے عقیدت

بجُز خیال کے طیبہ دکھائی دیتا ہے
محبتوں کو یہ رستہ دکھائی دیتا ہے

واصف علی واصفؒ …ایک سچائی

رہنما بہت ہوئے،ولی بہت ہوئے،فقیر بہت،اللہ والے بھی بہت،نبی پاک ﷺ سے محبت کرنے والے بھی بہت پیدا ہوئے اور نامور بھی ہوئے۔کیا یہ سب لوگ ناموری کے لئے آئے‘ یااُنہوں نے وہ کچھ کیا جس سے اِبتلا سے نجات ملی ہو‘گھروں میں سدھار آیا ہو ‘یا ہمارے اعمال سُدھر گئے ہوں۔

کتابِ ہستی کے سارے عنواں

کتابِ ہستی کے سارے عنواں ‘ بنامِ احمدﷺ بنامِ احمدﷺ
نصابِ مستی کے سارے اِمکاں ‘ کلامِ احمدﷺ کلامِ احمدﷺ

حضرت واصف علی واصفؒ اور پاکستان

عصرِ حاضر میں قبلہ واصف علی واصفؒ صاحب ایک نابغۂ روزگار شخصیت ہیں جن کی تعلیمات کا خاصہ ہے کہ یہ ہمیں روح و حقیقتِ دین و دُنیا سے روشناس کراتی ہیں۔ یہ تعلیمات ہمارے لئے اِس فانی زندگی اور اُس ابدی حیات کے ہر ہر شعبے میں مشعلِ راہ ہی نہیں‘مینارۂ نُور ہیں۔اخلاقیات کی تعلیم اور خیال کے مسافروں کی تربیت کا اس قدر حسین امتزاج کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے

BOTH WING THEIR WAY THROUGH THE SAME ATMOSPHERE

At some stage, as they wheeled somewhere high above the world, the vulture and the falcon came together. As they sailed through the air, side by side, it was but natural that they should have a chat.