All posts in Edition 11

حرف ِآغاز

دنیا دار کی نیکی کی کوکھ میں ایک برائی پوشیدہ ہوتی ہے … یہ برائی اس وقت جنم لیتی ہے جب وہ اپنی من مرضی کی نیکی کرتا ہے یا پھر نیکی میں من مرضی کرنا چاہتا ہے …کہ اس من مرضی کاتعلق من سے نہیں ٗ تن سے ہوتا ہے ۔ من مرضی کاسیدھا مطلب ہے من مانی کرنا …

اِس نامِ محمد ﷺ کے صدقے

انوار برستے رہتے ہیں اُس پاک نگر کی راہوں میں
اک کیف کا عالم ہوتا ہے طیبہ کی مست ہوائوں میں

اس نامِ محمد ﷺ کے صدقے بگڑی ہوئی قسمت بنتی ہے
اس کو بھی پناہ مل جاتی ہے جو ڈوب چکا ہو گناہوں میں

صداقت

دوست نے دوسرے سے پوچھا’’بھئی آپ نے زندگی میںپہلا جھوٹ کب بولا‘‘۔دوست نے جواب دیا’’جس دن میں نے یہ اعلان کیا کہ میںہمیشہ سچ بولتا ہوں‘‘۔سچ اور جھوٹ ہماری زندگی میں کچھ اس طرح شِیروشکر ہو گئے ہیں کہ ان کو جدا کرنا مشکل سا ہے۔کاذب ماحول میں صادق کی زندگی ایک کربلا سے کم نہیں۔

غزل

کل تک جو کر رہے تھے بڑے حوصلے کی بات

ہے ان کے لب پہ آج کٹھن مرحلے کی بات

جس کارواں کے سامنے تارے نِگوں رہے
صحرا میں اُڑ گئی ہے اُسی قافلے کی بات

الفاظ

ہر خیال اپنے مخصوص پیرہن میں آتا ہے۔یہ پیرہن الفاظ سے بنتا ہے۔خیال نازل فرمانے والے نے الفاظ نازل فرمائے ہیں۔الفاظ ہی کے دم سے انسان کو جانوروں سے زیادہ ممتاز بنایا گیا ۔انسان اشرف ہے اس لئے کہ وہ ناطق ہے۔

محفل

سوال : اللہ تعالیٰ گناہ تو بخش دیتا ہے لیکن گناہ نیکی میں کیسے بدل جاتے ہیں؟

اقتباساتِ گفتگو

ہم نیکی رضائے الٰہی کے لیے کرتے ہیں اور اس کے نتائج اور اس کی شہرت دنیا میں تلاش کرتے ہیں ۔ یہی بنیادی خامی ہے ۔ اگر زمانہ تاریک ہے تو جگنو کو خوش ہونا چاہیے۔ جھوٹے ماحول میں سچا آدمی اذیّت میں نہیں ہو گا تو کیا ہو گا؟ معاشرے میں اذیّت ہی اِس کی داد ہے۔

فرزندِ ذی وقار زمین ِ خوشاب کا

ہے سلسلہ عجیب سوال و جواب کا
وہؒ بابِ التفات شہِ بوتراب ؑ کا

اک لذّتِ دوام ہے ان کے کلام میں
الفاظ سے ٹپکتا ہے نشّہ شراب کا

صاحب ِ بیان

’’کُن‘‘ بیان ہے‘اولین امر و فعلِ الٰہی۔خالق و مالکِ کائنات کی زبان سے نکلا ہوا پہلا لفظ۔عدم ہو یا وجود…جہاں تک ’’کُن‘‘ کی حکمرانی ہے…بیان کے جھنڈے گڑے ہیں۔

اِجماعِ اُمت

ایک روز ایک شخص حضرت واصف علی واصف ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرا سوال ذرا لمبا ہے‘اجازت ہو تو میں عرض کروں۔آپ میں جو بے شمار خصوصیات تھیں‘ان میں سے ایک خاص وصف یہ تھا کہ ہر کسی کی بات بڑے تحمل سے سنتے رہتے تھے۔

واصف علی واصفؒ اور اُردو انشائیہ

آج مجھے یہ سعادت حاصل کرنے کاموقع ملا ہے کہ میںایک ادیب ہونے کے ناطے جناب واصف علی واصفؒ کی یاد کے دیپک روشن کروںاور اس کے ساتھ ساتھ اُ ن کی تحریر کا اُردو انشائیہ کے تناظر میں ایک ادبی جائزہ پیش کروں۔

گنجینہ ٔ معانی

فکرِ واصفؒ سے پہلا تعارف۲۰۰۱ میں ہوا۔ کتب بینی کا شوق بچپن سے تھا۔ ایک دوست کے پاس ـ’’بات سے بات‘‘ پڑی دیکھی تو اٹھا لایا۔ پہلی نظر میں اقوال زرّیں کا مجموعہ لگا۔جب آدھی سے زیادہ کتاب پڑھ لی تو احساس ہوا کہ یہ توایک ہی شخص کی باتیں ہیں۔ حیرت کے ایسے مقام سے کم ہی گزر ہوا تھا

خیال کے مسافر

خیال کے مسافر دراصل خالقِ خیال کے مسافر ہیں۔خیال کا سفر لا محدود ہے۔ خیال کے مسافر’’ اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی کسی اور دنیا میں رہتے ہیں‘‘۔خیال کے مسافر ’’لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون‘‘کی منزلوں کے راہی ہوتے ہیں۔خیال ایک بہت بڑی دولت ہے‘ایک انمول خزانہ ہے۔خیال کے مسافر خوش نصیب ہوتے ہیں… اللہ کے قریب ہوتے ہیں۔

باطن

محمد وقار حیدر
سوچ میں ڈوبانہیں جا سکتا کیونکہ سوچ ہمیشہ الجھن میں ڈالتی ہے۔جسے ہم سوچ میں ڈوبناکہتے ہیںوہ دراصل ایک نقطے پر اپنے آپ سے متفق ہو کرہم اپنے آپ میں ڈوبتے ہیں۔

حکایت

ایک سال ہشام بن عبدالملک بن مروان حج کے لئے آیا۔طوافِ کعبہ کر رہا تھا اور چاہتا تھاکہ حجرِ اسود کو بوسہ دے لیکن اژدہام میں وہاں تک پہنچنے کی راہ نہ ملتی تھی۔ جب وہ منبر پر خطبہ دینے کھڑا ہوا تو حضرت زین العابدین بن الحسین بن علی رضوان اللہ علیھم اجمعین مسجدِ حرام میںاس جاہ و جلال سے داخل ہوئے

شعلۂ طُور آیا ہے

عشق والوں کے دل و جاںپہ سُرور آیا ہے
اُس مہِ کاملؐ کا پھر ماہِ ظہور آیا ہے

لے کے اَفلاک سے خود تحفۂ قرآنِ مبیں
ظلمتِ دہر مٹانے کو وہ نورؐ آیا ہے

باخدادیوانہ باشد بامحمدﷺ ہوشیار !!

ڈاکٹر اظہر وحید دیانت کیاہے … اور خیانت کیاہے؟ دیانت کی ابتداعمل سے پہلے قول سے شروع ہوتی ہے اور قول سے پہلے خیال سے ۔ جو شخص خیال میں خیانت کا مرتکب ہوتاہے ‘ وہ کسی عمل اور عقیدے میں دیانتدار نہیں ہوسکتاہے۔ لفظ کہناایک عہد کو دہرانے کے مترادف ہے … وہ عہدRead more…

السّلام اے سبز گنبد کے مکیں !

نعت تو بڑے مقدر کی بات ہوتی ہے۔ہمیں تو سرکار ﷺ کی مدح میں کالم کے چند فقرے ہی نذر کرنے کی توفیق مل جائے تو شکر گزاری سے روح اور قلب سرشار ہو جاتے ہیں۔اسی سوچ میں سرگرداں‘میںزمان اور مکان کی گردش میں جسمانی سطح پر محوِ سفر تھا

خاک وطن محو دُعا

نورِ خدا ظاہر ہوا ‘ صل علیٰ صل علیٰ
شاخِ زماں پہ کِھل گیا ‘ صل علیٰ صل علیٰ

کیسے بنے کون و مکاں ‘ اتنی سی ہے یہ داستاں
نورِ اَحد ‘ واحد ہوا ‘ صل علیٰ صل علیٰ

حضرت واصف علی واصف ؒ اور پاکستان

گذشتہ دنوں ۱۶ جنوری ۲۰۱۱ء ’’واصفؒ خیال سنگت‘ گوجرانوالہ ‘‘ کے زیرِاہتمام ملک کے نامور ادیب،شاعر،صوفی دانشور حضرت واصف علی واصف علیہ الرحمتہ کی یاد میں ایک عظیم الشان سیمینار گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔