All posts in Edition 10

حرف ِآغاز

کوئی انسان اس وقت تک کسی کی تعریف نہیں کر سکتاجب تک وہ خودبھی اس تعریف کا اہل نہ ہوجائے۔کسی کی عظمت کا معترف ہونے والا خود بھی ایک عظمت کا حامل ہوتاہے … اور کسی انسان کی عظمت کا منکردراصل خود کسی تعریف کے قابل نہیں ہوتا۔ جو کسی انسان کا معترف نہیںہوتا‘ وہ خود معتبر نہیںہوتا۔

میلاد النّبی

مبارک صد مبارک بانی دینِ مبیں آئے مبارک اہلِ ایماں کو کہ ختمُ المرسلیں آئے
چراغِ طو ر آئے، زینت ِ عرشِ بریں آئے مبارک ہو کہ دنیا میں شہِ دنیا و دیں آئے

عید میلاد النبی صلى الله عليه وسلم کیسے منایاجائے؟

پہلے تو آپ یہ دیکھو کہ آپ یہ کہہ رہے ہو کہ آج کے دن حضور پاک صلى الله عليه وسلم کی ولادت ہوئی یعنی آپ صلى الله عليه وسلم آج کے دن آئے۔لیکن حضور پاک آج کے دن تو نہیں آئے۔آج جو دن ہے وہ ۱۹۸۷ء کے نومبر کے مہینے کادن ہے۔حضور پاک صلى الله عليه وسلم کی ولادت کا دن تو ایک تھا

چہرہ

جس طرح آسمان کی بسیط وسعتوں اور عمیق پہنائیوں میں کروڑوں ستارے اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں‘جمیل و جسیم ستارے اور سیارے حسنِ کائنات کے انوکھے پُر تاثیر مظاہر ہیں‘اسی طرح حیاتِ ارضی میں کروڑوں چہرے اپنے اپنے خیال اور اپنی اپنی ضروریات کے مدار میںسرگرمِ عمل ہیں‘مصروفِ عمل ہیں‘مصروفِ سفر ہیں۔پُر تاثیر مؤثر چہرے حسنِ زندگی کی تفسیرِ مُقدس کے مظاہر ہیں۔

آنکھیں

عجائباتِ دہر میں سب سے بڑا عجوبہ انسانی آنکھ ہے۔ یہ ایک کیمرے کی طرح ہے لیکن اس کی ساخت میں قدرتِ کاملہ نے کمال دکھایا ہے ۔یہ چہرے کی زینت ہونے کے ناطے سے بھی انسان کی شخصیت کا طرّئہ امتیاز ہے۔

خیالِ پنہاں

حضرت واصف علی واصفؒ دورِ حاضر کے ایک معروف صوفی دانش ور ہیں ۔ ٓآپ ؒنے اپنی تحریر اور گفتگو کے ذریعے عصرِحاضر کے ادب پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیںجو وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتے جارہے ہیں۔ آپ کی تحریریں اپنے اندر ایک تحیر لئے ہوئے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے اُن کے اندر علم کاایک سمندر سمایا ہوا تھا

حضور نبی کریم صل اللھ علیھ وسلم کی رحمت و شفقت

اے لوگو!تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم میں سے ہے اور تمہارا نقصان میں پڑنا اس کے لئے شاق ہے‘تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے وہ شفیق اور رحیم ہے۔اس سے زیادہ اور کیا سند ہو سکتی ہے کہ حضور پاک کی رحمت اور شفقت کا اعلان اللہ کریم نے خود فرمایا ہے

غزل الغزلات

رازِ دل آشکار آنکھوں میں
حشر کا انتظار آنکھوں میں

نعت

مَن رآنی کا مدعا چہرہ
صورتِ حق کا آئینہ چہرہ

شاہد و مشہود

نُورِ مجسّم
خَلق سے پہلے
ایک اکائی،واحد،یکتا
اپنی ذات میںتنہا مخفی،گنجینہ تھا
نور کا ہالا
اپنے آئینے کا باطن

سعدی ؒ اور واصفؒ

حکایت ِ سعدیؒ

میں نے سنا کہ ایک فقیر تنگ جگہ پر تھا۔حضرت عمرث کا پائوں اس کے پائوں پر جا پڑا ۔درویش کو کیا معلوم کہ وہ کون ہیں …کہ رنجیدہ شخص دشمن اور دوست میں تمیز نہیں کرتا… وہ درویش اُن پر غصے سے پل پڑا کہ کیا تو اندھا ہے ؟

حضرت واصف علی واصفؒ اور محفلِ سوال

یہ کائنات ایک سوال ہے۔ سوال در سوال، اور ہر سوال کا جواب صرف خالقِ
کائنات کے پاس ہے کیونکہ وہ ہر عمل میں با اختیار ہے ‘ جس کا جواز بھی اُس کے پاس ہے۔ صاحبِ جواز ہی صاحبِ جواب ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلا سوال بھی اس نے خود ہی اٹھایا کہ میں نے کائنات کو تخلیق کیوں کیا؟

بھرے بھڑولے

کوئی وِرلا موتی لے تردا راہ کھوجو اپنے اندر دا
(اپنے اندر کا راستہ تلاش کرو کہ کوئی بالآخرخال خال کامیابی کاموتی لے آتاہے)
میں موتی اوس سمندر دا جو ٹھاٹھاں اَکّھاں وِچ م
(آنکھوںمیں جو سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے‘میں اس سمندر کا موتی ہوں)
او غیراں دے کاسے بھردا جنّہے اپنا کاسہ توڑیا اے
(جس نے اپنا کشکول توڑ دیاہے‘ وہی دوسروں کے کشکول بھرتا ہے)
اج توں ایںمالک جس گھردا ایتھے لکھاں آکے ٹر گئے
( آج تم جس گھر(دنیا) کے مالک بنے بیٹھے ہو‘ اس کاحال یہ ہے کہ یہاںلاکھوں آئے اور چلے گئے )
ہن رگڑا کھا قلندر دا کی جانیا سی توں واصفؔ
(تو نے آخر واصفؔ کو کیا جاناتھا… اب اِس کے قلندرانہ جلال کا سامناکر !!)
فرہنگ : کھوجو:ڈھونڈو ، وِرلا: خال خال(منفرد) ، تردا : منزل پر پہنچنا،

اَکّھاں : آنکھیں ، جنّہے :جس نے ، کاسہ : کشکول ، لکھاں :لاکھوں ، ٹُر گئے :چلے گئے

واصفؒ خیال

واصف علی ہے نام اک ارفع خیال کا
پرتَو ہے ذاتِ پاک کے حُسن و جمال کا

حُسنِ اِنتخاب

دعا کرو کہ خدا امیر اور غریب کے بے انتہا فرق کو مٹا دے اور دعا ہے کہ غریب اپنی غریبی پر مایوس نہ ہو اور امیر اپنی امیری پر مغرور نہ ہو۔یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ جب غریب‘ غریب نہ رہے اور امیر‘امیر نہ رہے۔اور ایسا وقت آسکتا ہے اور ایسا وقت ضرور آئے گا اور جلد آئے گا۔یہی تو اصل اعجازِ اسلام ہے کہ غریب ‘قوی ہوتا ہے اور دولتمند‘ بزدل۔اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ جاننے والے خاموش ہیں اور بولنے والے جانتے نہیںہیں!!

خبرنامہ واصفین

’واصف ؒ خیال سنگت گوجرانوالہ‘‘ کے زیرِ اہتمام ۱۶ جنوری ۲۰۱۱ء بروز اتوار دوپہر ۲ بجے بمقام شیخ محمدیونس میموریل آڈیٹوریم ‘قائدِاعظم ڈویژنل پبلک کالج گوجرانوالہ میں تعلیمات ِ واصف ؒ کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد ہورہا ہے

Prelude

Beloved is One Who is to Be loved. To be loved is a prime and primordial call of Beloved. It was said, long ago, beauty lies in the eyes of beholder……

THE BELOVED

How strange it is that when the father lost his beloved son, he also lost his vision and long afterwards on smelling the shirt of his missing son, his sight returned.